ابنا: اس غیر قانونی اقدام کی تفصیلات منظرعام پر آنے کے بعد نیویارک میں اسلامی گروپ کے رہنما ؤں نے اس شہر کے اعلی پولیس افسروں سے ملاقات کی۔ جس کے دوران نیویارک میں مقیم مسلم برادری کے رہنماؤں نے پولیس اہلکاروں کی جانب سے جاسوسی پر شدید تنقید اور اس کی مذمت کی۔رپورٹ کے مطابق نیویارک کی پولیس نے اس شہر کے تمام مسلمانوں کی صرف مذہبی بنیاد پر فائلیں تیار کی ہیں اور ان مسلمانوں کی مستقل نگرانی کی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے بےگناہ افراد کے نام پولیس کی فائلوں میں درج ہیں اور پولیس اہلکار مسجدوں ، خیراتی اداروں، اسلامی انجمنوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تفتیش کر ر ہے ہیں حالا نکہ امریکی قانون میں اس بات کی نفی کی گئی ہے۔ چنانچہ نیو یارک کی پولیس کا دعوی ہے کہ وہ لوگوں کی قومی اور مذہبی بنیادوں پر جاسوسی نہیں کر رہی ہے۔ جبکہ پولیس کو قانون صرف اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے، مجرموں یا مشکوک افراد کے بارے میں تحقیق کرے۔البتہ نیویارک پولیس کی کارروائیوں سےصاف ظاہر ہوتا ہے کہ مشکوک لسٹ میں ناموں کے اندراج کے لئے کسی کا صرف مسلمان ہونا ہی کافی ہے اور دین و عقائد اور قوم پرستی کی بنیاد پر لوگوں کو پریشان کرنا امریکہ میں روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔خیال ر ہے کہ امریکہ میں قوم پرستی کے نام پر جاسوسی، صرف مسلمانوں ہی سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ دوسری اقلیتیں جیسے سیاہ فام اور ہسپانوی باشندے بھی اس میں شامل ہیں دوسری عالمی جنگ کے موقع پر ہر جاپانی شہریت رکھنے والے امریکی نژاد کو شک کی نگاہ سے صرف اس لئے دیکھا جاتا تھا کہ اس نے دشمنوں کے ساتھ تعاون کیا ہے اسی بنا پر ان افراد کو زبردستی لیبر کیمپ بھیج دیا جاتا تھا۔ ابھی امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک تو نہیں کیا جا رہا ہے لیکن امریکہ کی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی نظر میں ہر مسلمان مشکوک ہے جس نے ان کی زندگی دشوار بنا دی ہے یا یہ کہ ثابت ہوجائے وہ ایسا نہیں ہے۔ ظاہر ہے امریکہ میں مقیم تمام مسلمانوں کو ہر مسئلے میں مشکوک قرار دینے کی وجہ سے دسیوں لاکھ مسلمانوں کا زندگی گزارنا دشوار ہوگیا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک مسافر کو صرف اس جرم میں جہاز پر سوار ہونے سے روک دیاجاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا اسی طرح ایک شخص کی جس کے کپڑوں پر صرف عربی عبارت تحریر تھی اس کی تفتیش کی گئی۔ ان پیچیدہ حالات کی بنا پر ایسا ماحول پیدا ہوگیا ہے کہ ایک امریکی جوان نے نیو یارک میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو صرف اس لئے زدوکوب کرنا شروع کر دیا کہ اس نے عربی زبان میں گفتقگو کی تھی۔ امریکہ میں اسلام دشمنی کے ایسے حساس ماحول سے فائدہ اٹھاکر پولیس نے بھی اپنے اہلکاروں کو تربیت دینے کے لئے اسلام کے خلاف ایسی فلمیں تیار کی ہیں جن میں مسلمانوں کو دہشتگرد گرد بتایا گیا ہے جب کہ ایسے حالات میں پولیس کی ذمہ داری ہے کہ قوم پرستی اور نسل پرستی کے خلاف کارروائیاں کر ے نہ کہ خود ہی دوسروں کو قوم پرستی کی تشویق و ترغیب د ے۔......./169
10 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 302054
نیویارک میں مسلمانوں کے خلاف اس شہر کی پولیس کے ذریعے جاسوسی کی رپورٹ آنے کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے غم و غصے میں شدید اضافہ ہوا ہے اور اس رپورٹ نے مسلمانوں کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔